National News

12 February, 2021 16:42

مغربی معاشرہ (خاندان کے تناظر میں)

ذکیہ تسنیم، کانپور۔

عورت خاندان کی روح ہوتی ہے۔ گھر کو سمیٹ کو رکھنے کا ہنر اس کے پاس ہوتا ہے گھر عورت کی ریاست ہے۔ وہ اس کی ملکۂ ہے۔ جب تک عورت گھر میں رہتی ہے۔ گھر میں امن سکون بنا رہتا ہے۔ گھر کے ہر فرد کو سکون میسر ہوتا ہے۔ گھر کا نظام اگر بہتر ہوتا ہے۔ تو عورت کے وجود سے ہوتا ہے۔ مگر مغربی تہذیب نے عورت سے اس کی ریاست آزادی نسواں کے نام پر چھین لی۔ اسے ایسے سر سبز باغ دکھائے کۂ وہ ان میں محو ہو گئی۔ اسے لگا کے اسے گھر کی چار دیواروں میں قید کر دیا گیا ہے۔ اس نے آزادی نسواں کے نعرے کو اپنے لیے ترقی کا راستہ سمجھا اور گھر سے نکل کھڑی ہوئی۔ عورت کے گھر سے نکلتے ہی مغربی معاشرے اور عائلی نظام میں جو تنزلی رو نما ہوئی ہے۔ اس سے مغربی معاشرے میں بے حیائی۔ عریانیت۔ فحاشی کا سیلاب آگیا۔ عائلی نظام تلپٹ ہو گیا۔ عورت جو آزادی نسواں سے پہلے گھر کی چار دیواروں میں رہنے کو ظلم سمجھتی تھی۔ صحیح معنوں میں وہ اب مظلومیت کی شکار ہے۔ وہ گھر جو اس کی عزت اور حرمت کی آماج گاہ تھا ۔ اب گھر سے باہر جا کر مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اسکی عزت کا کوئی مول نہ رہ گیا۔ وہ مردوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن گئی۔ جب عورت اپنا معاش خود کمانے لگی۔ تو مرد اس کے حقوق سے آزاد ہو گئے۔ شوہر پر بیوی کے کیا حقوق ہیں۔ عورت پر شوہر کے کیا حقوق ہیں۔ اس کے کوئی معنی نہ رہ گئے۔ مغربی تہذیب میں اگر ازدواجی زندگی سکون سے نہ گزرنے کی حالت میں اگر عورت شوہر کے خلاف کیس کرتی ہے۔ تو شوہر کو قانونی طور پر گھر چھوڑنا پڑتا ہے۔ اور اپنی آدھی وراثت بیوی کے نام کرنی پڑتی ہے۔ اس لیے اپنے حقوق سے بچنے کے لیے لوگوں نے شادی جیسے پاکیزہ رشتہ کو اپنانے کے بجائے لونگ رلیشن شپ جیسے بے ہودہ اور گھٹیا رشتے کو عملی جامہ پہنا دیا۔ جس سے عورتوں پر ظلم کی انتہا ہو گئی۔ اب عورتیں بنا شادی کے ماں بن جاتی ہے۔عورت اپنے حقوق سے آزاد مرد اپنے حقوق سے آزاد۔ یہ ہے آزادی نسواں کا نتیجہ۔ موجودہ دور میں مغربی عورت کی حالت اس عورت کی سی ہے جو پہاڑ سے اتر رہی ہو اور اسکے بغلوں میں پانی سے بھرے گھڑے ہیں اور تیسرا گھڑا اسکے سر پر ہے۔
بچے کی پیدائش۔ اسکی پرورش اسکی تعلیم وتربیت کو خدا نے خود ایک بڑی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اور اس پر معاشی ذمہ داری کے بوجھ نے مغربی معاشرے اور خاندان کے شیرازے کو بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ گھر ویران ہو گئے ہیں۔ بچے ماں کی ممتا سے محروم ہیں میاں بیوی کے بیچ دوری پیدا ہوگئی ہے۔ بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرنے والا کوئی نہیں۔ والدین کے حقوق کو تو ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔ اسلام نے جن کی خدمت کے بدلے جنت کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ بوڑھے ماں باپ کا حال تو بد سے بدتر ہے۔ ماں باپ کے حقوق سے دست بردار ہونے کے لیے اولڈ ایج ہوم بنا دیئے گئے ہیں۔ اب آپ تصور کر سکتے ہیں۔ کۂ مغربی عائلی نظام میں کس قدر طوفان مچا ہوا ہے۔
مغرب اور اہلِ مغرب کے بارے میں علامہ اقبال نے درست فرمایا ہے۔
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا،
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا،
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا،
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا۔
آج مغربی معاشرہ اور مغربی خاندان اذیت ناک کیفیت سے دو چار ہے۔ جنس کی وجہ سے مغرب پریشان اور اذیت سے دو چار ہے۔ مغرب کا خاندان اور گھر کا نظام آرام و راحت اور سکون کا نہیں، بے چینی اور پریشانی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ مغرب کا انسان ڈکنسن کلبوں، جوا خانوں میں سکون کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ نہ ان کے معاشرے میں سکون ملتا ہے۔ اور نہ گھر میں۔ ضرورت اس امر کی ہے۔ کۂ مغرب کا انسان اسلام کے دامن رحمت میں پناہ حاصل کرئے۔ جس میں دنیاوی اور اخروی اطمینان اور سکون ہی سکون ہے اور یہ موجودہ دور کے مسلمان کا بھی کام ہے۔ کۂ وہ مغرب کے بھٹکے ہوئے اور پیاسے انسان کی اسلام کی طرف رہنمائی کریں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
%d bloggers like this: