National News

عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی !

عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی !

✍صدیقی محمد اویس، میراروڈ، ممبئی۔

ہم بچپن ہی سے عموماً اردو ادب وغیرہ میں عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی پڑھتے سنتے آئے ہیں۔ لیکن کبھی غور نہیں کیا کہ حقیقی عشق اور مجازی عشق میں فرق کیا ہے ؟ دراصل عشقِ حقیقی، خدا سے عشق ہے۔ جبکہ مجازی، انسانوں سے عشق کا نام ہے۔ دونوں ہی اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ عشق حقیقی میں نہ کوئی دکھاوا ہوتا ہے نہ کوئی روایات، نہ کوئی واہٹس ایپ اسٹیٹس نہ کوئی پوسٹ، محض بندے کا راست تعلق اسکے خدا سے ہوتا ہے اور اسکا رب اسکی تمام باتوں کو جانتا ہے، چاہے بندہ اسکا اظہار کرے یا نہ کرے، چاہے بندہ کتنا ہی خطا کار کیوں نہ ہو، کتنا ہی قصور وار کیوں نہ اسکا رب اسے معاف کر ہی دیتا ہے، شہ رگ سے بھی قریب ہوتا ہے وہ رب، جب کوئی ساتھ نہیں ہوتا تو وہ ساتھ ہوتا ہے، اپنے بندے کو نا امید نہیں کرتا ہے وہ، تبھی تو یہ عشق حقیقی کہلاتا ہے۔ اسکے برعکس انسانوں کا عشق ہے، جو ہر انسان میں ایک سا نہیں ہوتا، کسی میں کم کسی میں زیادہ۔ کسی کو ایک دفعہ ہوتا ہے تو کوئی متعدد بار عشق میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ کوئی بے چین ہوجاتا ہے تو کوئی بہت خوش، کوئی نا امید تو کوئی امید پر قائم وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اسی لئے تو یہ مجازی ہے۔۔۔۔!!!!

عشق کے مراحل میں وہ وقت بھی آتا ہے
آفتیں برستی ہیں دل سکون پاتا ہے
آزمائشیں اے دل ! سخت ہی سہی لیکن
یہ نصیب کیا کم ہے کوئی آزماتا ہے

خیر اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔۔آمین۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
%d bloggers like this: